حدیث نمبر: 2666
٢٦٦٦ - حدثنا وكيع عن داود بن قيس عن (عبيد اللَّه) (١) بن عبد اللَّه بن أقرم الخزاعي عن أبيه قال: كنت مع أبي بالقاع من نمرة (فمر) (٢) بنا ركب فأناخوا بناحية الطريق فقال: أي بني كن في بُهْمِكَ حتى آتي هؤلاء القوم، فخرج وخرجت معه يعني: دنا ودنوت فإذا رسول اللَّه ﷺ، فصلى وصليت معه، فكنت انظر إلى عفرة إبطيه (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عبد اللہ بن اقرم خزاعی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ مقام نمرہ میں تھا کہ ہمارے پاس سے کچھ سوار گذرے، انہوں نے راستے کے ایک طرف پڑاؤ ڈالا، میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اے میرے پیارے بیٹے ! تم اپنے ان جانوروں کے ساتھ رہو، میں ابھی آتا ہوں۔ وہ چلے تو میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا۔ دیکھا تو وہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، آپ نے نماز پڑھی، میں نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی، میں نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [هـ]: (خمر).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2666
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٦٤٠٢)، والنسائي ٢/ ٢١٣، والترمذي (٢٧٤)، وابن ماجه (٨٨١)، والحاكم ١/ ٢٢٧، والبيهقي ٢/ ٢١٤، والبغوي (٦٥٠)، والشافعي في المسند ١/ ٩٢، ويعقوب في المعرفة ١/ ٢٦٥، والضياء (١٥٠٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٣١)، والحميدي (٩٢٣)، والطبراني (٩٠٤)، والمزي ١٤/ ٣١٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2666، ترقيم محمد عوامة 2657)