حدیث نمبر: 2654
٢٦٥٤ - حدثنا عبيد اللَّه عن عثمان بن الأسود قال: دخلت أنا و (عمرو) (١) بن تميم المسجد فركع الإمام فركعت أنا وهو، ومشينا راكعين حتى دخلنا الصف، فلما (قضينا الصلاة) (٢) قال لي عمرو: الذي صنعت آنفًا ممن سمعته؟ قلت: من مجاهد، قال: قد رأيت بن الزبير فعله (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عثمان بن اسود فرماتے ہیں کہ میں اور عمرو بن تمیم مسجد میں داخل ہوئے، امام نے رکوع کیا تو میں نے اور انہوں نے بھی رکوع کرلیا، پھر ہم دونوں رکوع کی حالت میں چلتے ہوئے صف کے ساتھ مل گئے ۔ جب ہم نے نماز مکمل کرلی تو عمرو نے مجھ سے کہا کہ جو کچھ تم نے ابھی کیا ہے اسے کہتے ہوئے کس کو سنا ہے ؟ میں نے کہا مجاہد سے اور انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے حضرت ابن زبیرکو ایسا کرتے دیکھا تھا۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (عمرو)، وفي [أ، ب، هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [أ، جـ، ك]: (قضينا الصلاة)، وفي [ب، هـ]: (دخلنا الصف).
(٣) مجهول؛ لجهالة عمرو بن تميم، وقال ابن حزم: عمرو منكر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 2654
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 2654، ترقيم محمد عوامة 2646)