مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
في الرجل يدخل والقوم ركوع فيركع قبل أن يصل الصف باب: اگر کوئی آدمی جماعت کو رکوع کی حالت میں پائے اور صف کے ساتھ ملنے سے پہلے ہی رکوع کرلے تو اس کی رکعت کا کیا حکم ہے؟
٢٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) أبو الأحوص عن منصور عن زيد بن وهب ⦗٦٣⦘ قال: خرجت مع عبد اللَّه من داره إلى المسجد فلما توسطنا المسجد ركع الإمام، فكبر عبد اللَّه ثم ركع وركعت معه، ثم مشينا راكعين حتى انتهينا إلى الصف حتى رفع القوم رؤوسهم، قال: فلما قضى الإمام الصلاة قمت (٢) وأنا أرى لم أدرك فأخذ بيدي عبد اللَّه فأجلسني وقال: إنك قد أدركت (٣).حضرت زید بن وہب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ کے ساتھ ان کے گھر سے مسجد کی طرف گیا۔ جب ہم مسجد کے درمیان میں پہنچے تو امام نے رکوع کرلیا۔ حضرت عبد اللہ نے تکبیر کہی اور رکوع میں چلے گئے، میں بھی ان کے ساتھ رکوع میں چلا گیا۔ پھر ہم رکوع کی حالت میں چلتے ہوئے صف تک پہنچے تو اس وقت لوگ اپنے سر رکوع سے بلند کرچکے تھے۔ پھر جب امام نے نماز پوری کرلی تو میں یہ خیال کرتے ہوئے کھڑا ہوگیا کہ میری وہ رکعت چھوٹ گئی ہے۔ لیکن حضرت عبداللہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے بٹھا دیا۔ اور فرمایا کہ تمہیں وہ رکعت مل گئی ہے۔