حدیث نمبر: 26428
٢٦٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو بن مرة عن إبراهيم عن ابن مسعود قال: دخل شاب (على (عمر) (١) فجعل الشاب) (٢) يثني عليه، قال: فرآه عمر يجر إزاره، قال: فقال له: يا ابن أخي! ارفع إزارك، فإنه أتقى لربك (وأنقى) (٣) لثوبك، قال: فكان عبد اللَّه يقول: يا عجبًا لعمر إن رأى حق اللَّه عليه فلم يمنعه ما هو فيه (٤) أن تكلم به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن مسعود سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ایک نوجوان حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے حضرت عمر کی تعریف کرنا شروع کردی۔ راوی کہتے ہیں اس دوران حضرت عمر نے اس کو ازار کھینچتے ہوئے دیکھا۔ راوی کہتے ہیں حضرت عمر نے اس جوان سے کہا اے بھتیجے ! اپنا ازار اوپر کرلو۔ کیونکہ یہ تمہارے پروردگار کے نزدیک زیادہ تقویٰ کی بات ہے اور تمہارے کپڑے کے لئے زیادہ صفائی کی بات ہے۔ راوی کہتے ہیں پس حضرت عبد اللہ کہا کرتے تھے۔ حضرت عمر بھی عجیب تھے۔ جب انہوں نے اپنے پر خدا کا حق دیکھا تو انہیں یہ حق ادا کرنے سے وہ حالت مانع نہ ہوئی جس میں وہ نوجوان تھا۔ (یعنی تعریف کے باوجود کلمہ حق کہہ دیا)

حواشی
(١) في [أ]: (عجر).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [أ، جـ، ح]: (وأبقى).
(٤) أي: من الجراحات بسبب طعن المجوسي له.
(٥) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن ابن مسعود، أخرجه ابن شبة (١٦٠٤)، وورد نحوه من حديث عمرو بن ميمون عند البخاري (٣٧٠٠).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26428، ترقيم محمد عوامة 25312)