٢٦٣٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هشام عن ابن أبي ليلى عن ثابت قال: كانت جالسًا مع عبد الرحمن بن أبي ليلى فأتاه رجل ذو (ضفرين) (١) ضخم فقال له: يا أبا عيسى قال له: نعم قال (له) (٢): حدثني ما سمعت في الفراء، فقال: ⦗٥٠٩⦘ سمعت أبي يقول كانت جالسًا عند النبي ﷺ (فأتاه) (٣) رجل فقال: يا رسول اللَّه أصلي في الفراء؟ (فقال) (٤): " (أين) (٥) الدباغ؟ " (٦).حضرت ثابت سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا جس کی دو موٹی موٹی مینڈھیاں تھیں۔ اس نے ابن ابی لیلیٰ سے کہا : آپ نے چمڑا لگے لباس کے بارے میں جو بات سُن رکھی ہے وہ مجھے بیان کریں تو انہوں نے کہا میں نے اپنے والد کو کہتے سُنا ہے کہ میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں چمڑا لگے کپڑے میں نماز پڑھ لوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” دباغت کہاں گئی ؟ “