مصنف ابن ابي شيبه
كتاب اللباس
من رخص في لبس (الخز) باب: جو حضرات ریشم سے بنے ہوئے کپڑے کی اجازت دیتے ہیں
٢٦٢٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن صفوان بن عبد اللَّه قال: استأذن سعد على ابن عامر وتحته مرافق من (حرير) (١)، فأمر بها فرفعت، فلما دخل سعد (دخل) (٢) وعليه (مطرف) (٣) من خز، فقال (له) (٤): استأذنت عليَّ وتحتي (مرافق) (٥) من حرير فأمرت بها فرفعت، فقال له سعد: نعم الرجل أنت إن لم تكن ممن قال اللَّه: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [الأحقاف: ٢٠] (٦) لئن اضطجع على جمر (الغضا) (٧) أحب (إلي) (٨) (من) (٩) (أن) (١٠) اضطجع عليها، قال: فهذا عليك شطره حرير وشطره خز قال: إنما يلي (جلدي) (١١) منه الخز (١٢).حضرت صفوان بن عبد اللہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت سعد نے حضرت ابن عامر کے ہاں آنے کی اجازت طلب کی۔ جبکہ حضرت ابن عامر کے نیچے ریشم سے بنے تکیے تھے، چناچہ حضرت ابن عامر نے ان کے بارے میں حکم دیا اور ان کو اٹھا دیا گیا، پھر جب حضرت سعد ، حضرت ابن عامر کے ہاں داخل ہوئے تو ابن عامر پر اون اور ریشم سے تیار شدہ ایک دھاریدار چادر تھی۔ حضرت ابن عامر نے حضرت سعد سے کہا، آپ نے مجھ پر داخلہ کی اجازت مانگی تو میرے نیچے ریشم کے تکیے تھے چناچہ میں نے ان کے بارے میں حکم دیا اور وہ اٹھا دئیے گئے۔ اس پر حضرت سعد نے ابن عامر سے کہا۔ اگر آپ ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ : تم نے اپنی لذتوں کو دنیا میں پورا کرلیا۔ تو آپ بہترین آدمی ہوں بخدا مجھے تو جھاڑ کے درخت کے انگارے پر لیٹنا بنسبت اس پر لیٹنے کے زیادہ محبوب ہے پھر حضرت سعد نے کہا ، آپ پر یہ جو چادر ہے اس کا بھی ایک حصہ ریشم اور ایک حصہ خز اون اور ریشم سے بنا ہوا ہے ؟ حضرت ابن عامر نے کہا، میرے جسم کے ساتھ اس میں سے خز ملا ہوا ہے۔