حدیث نمبر: 26235
٢٦٢٣٥ - (١) حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عيينة بن عبد الرحمن عن علي ابن زيد قال: جلست إلى سعيد بن المسيب (وعليَّ) (٢) جبة خز، (فأخذ) (٣) بكم جبتي (وقال) (٤): ما أجود جبتك هذه، (قال) (٥): (قلت) (٦): وما (تغني) (٧) وقد أفسدوها عليَّ، قال: ومن أفسدها؟ قلت: سالم، قال: إذا صلح قلبك فالبس ما بدا لك، قال: فذكرت قولهما للحسن، (قال) (٨): فقال: إن من صلاح القلب ترك الخز.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن زید سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں حضر ت سعید بن مسیب کے پاس بیٹھا ، جبکہ مجھ پر اون اور ریشم سے تیار شدہ جُبہ تھا۔ پس انہوں نے میرے جُبہ کی آستین کو پکڑا اور کہا، تمہارا یہ جُبہ کتنا خوبصورت ہے ؟ کہتے ہیں میں نے کہا۔ لوگوں نے تو اس کو مجھ پر فاسد قرار دیا ہے ؟ انہوں نے پوچھا اس کو کس نے فاسد قرار دیا ہے ؟ میں نے کہا۔ حضرت سالم نے، انہوں نے کہا جب تمہارا دل درست ہو تو تم جو چاہو پہن لو۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان دونوں کی بات حسن سے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا : دل کی درستگی بھی اون اور ریشم سے بنے کپڑے کو چھوڑنے سے ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: زيادة (قال).
(٢) في [ز]: (وعليه).
(٣) في [ز]: (وأخذ).
(٤) في [هـ]: (قال).
(٥) في [ح]: (وقال).
(٦) سقط من: [ح].
(٧) في [ح]: (يعني)، وفي [أ، هـ]: (تعني).
(٨) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب اللباس / حدیث: 26235
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26235، ترقيم محمد عوامة 25126)