حدیث نمبر: 26171
٢٦١٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن (سعد) (١) بن إسحاق عن زينب (زوجة) (٢) أبي سعيد قالت: كان أبو سعيد يرانا ونحن نأكل الجراد فلا ينهانا، ولا يأكله، فلا (ندري) (٣) تقذرا منه (أو) (٤) يكرهه (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید کی بیوی، حضرت زینب سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ حضرت ابو سعید ہمیں دیکھتے تھے جبکہ ہم ٹڈی کھا رہے ہوتے تھے، پس آپ ہمیں منع کرتے تھے اور نہ خود اس کو کھاتے تھے ۔ لیکن مجھے یہ بات معلوم نہیں ہے کہ آپ کا یہ عمل اس سے گھن کھانے کی وجہ سے تھا یا آپ اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [جـ، ط]: (سعيد)
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (بنت)، وانظر: سنن البيهقي ٩/ ٢٥٨، والمطالب العالية (٢٣٧٢).
(٣) في [جـ، ز]: (أدري).
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (أو).