حدیث نمبر: 26107
٢٦١٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام قال: كان أبي لا يؤتى بطعام ولا شراب حتى الشربة من الدواء فيطعمه أو يشربه حتى يقول: الحمد للَّه الذي هدانا وأطعمنا وسقنا ونعمنا، (١) اللَّه أكبر، (اللهم) (٢) (أَلْفَتْنا) (٣) نعمتك بكل شر، وأصبحنا (وأمسينا) (٤) منها بكل خير، نسألك تمامها وشكرها، لا خير إلا خيرك، ولا إله غيرك، إله الصالحين ورب العالمين الحمد للَّه رب العالمين، لا إله إلا اللَّه، ما شاء اللَّه، لا قوة إلا باللَّه اللهم بارك لنا فيما رزقتنا وقنا عذاب النار.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہشام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے والد کے پاس کوئی کھانا یا مشروب نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ دوائی کا ایک گھونٹ بھی لایا جاتا۔ جس کو وہ کھاتے یا پیتے تو یہ کہتے۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ہدایت دی اور ہمیں کھلایا۔ ہمں ہ پلایا اور ہمیں نعمتوں سے نوازا۔ اللہ سب سے بڑا ہے ۔ اے اللہ ! تیری نعمتوں نے ہمیں ہر شر کے باوجود ہمیں پا لیا اور ہم نے صبح و شام، مکمل خیر کے ساتھ کی۔ ہم آپ سے مکمل نعمتوں اور ان کے شکریہ کا سوال کرتے ہیں۔ آپ کی (عطا کردہ) خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں ہے۔ آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اے صالحین کے معبود ! اے جہانوں کے پرور دگار۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو جہانوں کا پروردگار ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نیں ے ہے۔ (وہی ہوتا ہے) جو اللہ چاہتا ہے۔ طاقت اللہ کی طرف سے ہے۔ اے اللہ ! آپ نے ہمیں جو رزق عطا فرمایا ہے اس میں برکت دیجئے اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لیجئے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (و).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: (ألفينا).
(٤) في [ط]: بياض.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 26107
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 26107، ترقيم محمد عوامة 25000)