٢٥٨٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير (١) قال: حدثنا داود بن قيس قال: حدثني عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سئل رسول اللَّه ﷺ عن الفرع (فقال) (٢): "و (الفرع) (٣) حق؛ ولأن (تتركه) (٤) حتى يكون (شغزُبّا) (٥) ابن مخاض (أو ابن) (٦) لبون فتحمل عليه في سبيل اللَّه، (أو تعطيه) (٧) أرملة خير من أن تذبحه (يلصق) (٨) لحمه بوبره، ⦗٣٨٢⦘ (تكفا إناءك) (٩) وتوله ناقتك"، وسأله عن العتيرة؟ فسكت رسول اللَّه ﷺ فسأل بعض القوم عمر عن العتيرة فقال: كنا نسميها الرجبية، ويذبح أهل البيت الشاة في (الرجب) (١٠) فيأكلونها (١١).حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فَرَع کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” فَرَع حق ہے۔ اور یہ کہ تم اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ بچہ دو سال کا یا تین سال کا بڑا ہوجائے پھر تو اس پر راہ خدا میں بوجھ برداری کرے یا تو اس کو کسی رنڈے کو دے دے یہ اس سے بہتر ہے کہ تو اس کو ذبح کرے اور اس کا گوشت اس کے بالوں سے ملا دے اور تو ہانڈی کو انڈیل دے اور اپنی اونٹنی کو پاگل بنا دے اور سائل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عتیرہ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکوت فرمایا، ایک آدمی نے حضرت عمر سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا۔ ہم نے اس کا نام رجبیہ رکھا ہو اتھا۔ کوئی بھی اہل خانہ ایک بکری ماہ رجب میں ذبح کرتے تھے اور اس کو کھالیتے تھے۔