حدیث نمبر: 25870
٢٥٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن واضح عن محمد بن إسحاق عن عبد الكريم بن أبي المخارق عن حبان بن (جزء) (١) عن أخيه خزيمة بن (جزء) (٢) قال: قلت يا رسول اللَّه جئتك لأسالك عن (أحناش) (٣) الأرض ما تقول في الأرنب؟ قال: لا آكله ولا أحرمه، قلت: فإني آكل (مما) (٤) لم تحرمه، ولم يا ⦗٣٧٧⦘ رسول اللَّه (قال: أنبئت) (٥) أنها تدمي (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبان بن جزئ، اپنے بھائی حضرت خزیمۃ بن جزء سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں آپ کی خدمت میں اس غرض سے حاضر ہوا ہوں تاکہ میں آپ سے زمین کے قابل شکار کیڑے مکوڑوں کے بارے میں سوال کروں۔ آپ خرگوش کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام قرار دیتا ہوں۔ “ میں نے عرض کیا۔ جس چیز کو آپ نے حرام قرار نہیں دیا۔ میں اس کو کھاؤں۔ کیوں۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے بتایا گیا ہے کہ خون ڈالتا ہے۔ (اس کو حیض آتا ہے) ۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (حرمى)، وفي [جـ، ز]: (جرير).
(٢) في [أ، ح، ط]: (حرمي)، وفي [جـ، ز]: (جرير).
(٣) في [أ، ح، ط]: (أحناس).
(٤) في [أ، ح، هـ]: (ما).
(٥) ما بين المعكوفتين سقط في: [أ، ح، ط]، وفي [هـ]: (قال: نبئت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأطعمة / حدیث: 25870
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع حكمًا؛ لضعف عبد الكريم، وابن إسحاق مدلس، أخرجه ابن ماجه (٣٢٤٥)، والبخاري في التاريخ ٣/ ٢٠٦، والطبراني (٣٧٩٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤١١)، وابن جرير في مسند عمر من تهذيب الآثار (١١٨٦)، والمزي ٥/ ٣٣٥، وابن عساكر ٣٥/ ٤٥٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25870، ترقيم محمد عوامة 24771)