مصنف ابن ابي شيبه
كتاب العقيقة
في العقيقة كم عن الغلام وكم عن الجارية باب: عقیقہ کے بارے میں، بچہ کی طرف سے کتنے اور بچی کی طرف سے کتنے (جانور)
حدیث نمبر: 25824
٢٥٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن داود بن قيس عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سئل النبي ﷺ عن العقيقة (قال) (١): "لا أحب (العقوق) (٢)، من وُلد له (٣) مولود فأحب أن ينسك عنه، فليفعل: عن الغلام شاتان وعن الجارية شاة" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب، اپنے والد سے ، اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا گیا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں (والدین کی) نافرمانی کرنے کو پسند نہیں کرتا۔ جس آدمی کے بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے قربانی کرنے کو پسند کرے تو اس کو قربانی کرنی چاہیے، بچہ کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری۔ “
حواشی
(١) في [جـ، ز]: (فقال).
(٢) في [ط]: (بياض).
(٣) في [هـ]: (منكم) زائدة.