حدیث نمبر: 25814
٢٥٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبد اللَّه الأسدي عن شريك عن ابن (عقيل) (١) عن علي بن الحسين عن أبي رافع قال: قالت فاطمة: يا رسول اللَّه ألا (أعق) (٢) عن ابني دما، قال: "لا (٣)، (احلقي) (٤) رأسه وتصدقي بوزنه على ⦗٣٦١⦘ المساكين أواق من ورق أو فضة" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ابو رافع سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ نے سوال کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے عقیقہ میں خون نہ بہاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ تم اس کے سر کو حلق کردو۔ “ اور اس کے بالوں کے برابر وزن ڈھلی یا غیر ڈھلی چاندی کو مساکین پر صدقہ کردو۔ “
حواشی
(١) [جـ]: (فضيل).
(٢) في [ز]: (عق).
(٣) في [هـ]: زيادة (ولكن).
(٤) في [ط]: (احلق).