حدیث نمبر: 25787
٢٥٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ، فأتي بقدح فيه شراب، فقربه إلى فيه، ثم رده، [فقال (له) (١) بعض جلسائه: أحرام هو يا رسول اللَّه، قال: (ردوه) (٢)] (٣)، فردوه، ثم دعا بماء فصبه عليه ثم شربه فقال: انظروا هذه الأشربة، فإذا اغتلمت عليكم فاقطعوا (متونها) (٤) (٥) بالماء (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے منہ کے قریب کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو واپس رکھ دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض مجلس نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا یہ حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا۔ ” اس مشروب کو واپس لاؤ۔ “ چناچہ صحابہ نے وہ مشروب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واپس کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا۔ اور پھر اس کو نوش فرما لیا۔ اور ارشاد فرمایا : ان مشروبات کو دیکھ لیا کرو۔ پس جب یہ تم پر سخت ہوجائیں تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ لیا کرو۔ “

حواشی
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [جـ] زيادة: (فقال).
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [ز].
(٤) في [أ، ح، ط]: (قوتها).
(٥) في [ز]: (قوة).
(٦) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن القعقاع، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٢٠٤)، والطحاوي ٤/ ٢١٩، والدارقطني ٤/ ٢٦٢، والبيهقي ٨/ ٣٠٥، وابن أبي حاتم في المجروحين ٢/ ١٣٢، والمزي ٢٨/ ٤٢٦، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25787
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25787، ترقيم محمد عوامة 24691)