حدیث نمبر: 25769
٢٥٧٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري سمعه من أنس قال: قدم النبي ﷺ (المدينة) (١) وأنا ابن عشر، وتوفي ﷺ وأنا ابن عشرين، وكن أمهاتي ⦗٣٤٨⦘ يحثثنني على خدمته، فدخل علينا دارنا فحلبنا له من شاة داجن لنا، وشيب له من بئر في الدار، وأبو بكر عن شماله وأعرابي عن يمينه، وكان عمر ناحية، فقال عمر: يا رسول اللَّه! أعط أبا بكر، فأعطى الأعرابي وقال: الأيمن فالأيمن (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زہری سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت انس کو کہتے سُنا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا۔ اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس برس کا تھا۔ اور میری مائیں مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس ہمارے گھر میں تشریف لائے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے اپنی ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں اپنے گھر کے کنویں کے پانی کی آمیزش کی۔ حضرت ابوبکر ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں طرف تھے اور ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں طرف تھا۔ اور حضرت عمر ، ایک طرف تھے۔ چناچہ حضرت عمر نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! حضرت ابوبکر کو دے دیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیہاتی کو دے دیا اور ارشاد فرمایا ” دائیں طرف والا، پھر دائیں طرف والا، “ (یعنی یہ حق دار ہے۔ )

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25769
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٣٥٢، ٥٦١٩)، ومسلم (٢٠٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25769، ترقيم محمد عوامة 24674)