حدیث نمبر: 25768
٢٥٧٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: أخبرني شعبة عن عمارة بن أبي حفصة عن عكرمة قال: أتي عمر بشراب وهو بالموقف عشية عرفة، فشرب ثم ناول سيد أهل اليمن وهو عن يمينه، قال: إني صائم، قال: عزمت عليك إلا أفطرت وأمرت أصحابك (أن يفطروا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عکرمہ سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک مشروب لایا گیا جبکہ آپ عرفہ کی رات کو موقف میں تھے۔ پس آپ نے وہ مشروب پیا پھر آپ نے وہ مشروب اہل یمن کے سردار کو دے دیا اور یہ آپ کے دائیں جانب تھے۔ اس سردار نے کہا۔ میں روزہ دار ہوں۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم خود بھی روزہ توڑو اور اپنے ساتھیوں کو بھی حکم دو کہ وہ روزہ افطار کریں۔

حواشی
(١) في [جـ، ز]: (فافطروا).
(٢) منقطع؛ عكرمة لا يروي عن عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25768
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25768، ترقيم محمد عوامة 24673)