مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من كان يستحب أن يتنفس في الإناء باب: جو لوگ برتن میں سانس لینے کو درست سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 25747
٢٥٧٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن عثمان بن الأسود عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر قال: جلس رجل إلى ابن عباس (وقال) (٢): له من أين جئت قال: شربت من ماء زمزم، قال: فشربت منها كما ينبغي قال: إذا شربت منها فاستقبل الكعبة، واذكر اسم اللَّه، وتنفس ثلاثًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبد الرحمن بن ابی بکر سے روایت ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھا تو آپ نے اس سے پوچھا، تم (اس وقت) کہاں سے آئے ہو ؟ اس نے کہا۔ میں زم زم کا پانی پی کر آیا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ زم زم کا پانی جس طرح پینا چاہیئے تم نے اسی طرح پیا ہے ؟ پھر آپ نے فرمایا : جب تم زم زم کا پانی پیو تو قبلہ رُخ ہو جاؤ ، اللہ کا نام لو۔ اور تین سانس لو۔
حواشی
(١) في [ز]: (عبد اللَّه).
(٢) في [جـ، ز]: (فقال).
(٣) مجهول؛ لجهالة محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر.