مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من رخص في الشرب في النفس الواحد باب: جو حضرات ایک سانس میں پینے کی رخصت دیتے ہیں
حدیث نمبر: 25738
٢٥٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن أيوب قال: نبئت عن ميمون بن مهران قال: رآني عمر بن عبد العزيز وأنا أشرب، فجعلت أقطع شرابي وأتنفس فقال: إنما (نهي) (١) أن تتنفس في الإناء، فإذا لم تتنفس (في الإناء) (٢) فاشربه إن شئت بنفس واحد.مولانا محمد اویس سرور
ایوب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت میمون بن مہران کے بارے میں خبر ملی کہ وہ فرماتے ہیں ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے اس حالت میں دیکھا کہ میں پانی پی رہا تھا۔ پھر پانی پیتے ہوئے رُک جاتا اور سانس لیتا تو انہوں نے فرمایا صرف اس بات سے روکا گیا ہے کہ برتن کے اندر سانس لیا جائے۔ پس اگر تم برتن کے اندر سانس نہیں لیتے تو پھر تم اگر چاہو تو ایک ہی سانس میں پانی پی لو۔
حواشی
(١) في [هـ، ح]: (هي).
(٢) سقط من: [جـ، ز].