حدیث نمبر: 25731
٢٥٧٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن محمد عن أم عمرو بنت (أبي) (١) (عمرو) (٢) قالت: كانت عائشة تنهانا أن نتحلى الذهب أو نضبب الآنية أو نحلقها بالفضة فما برحنا حتى رخصت لنا (وأذنت) (٣) لنا أن ⦗٣٣٩⦘ نتحلى الذهب، وما أذنت لنا ولا رخصت (لنا) (٤) أن نحلق الآنية أو نضببها بالفضة (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام عمرو بنت ابی عمرو سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیں اس بات سے منع کرتی تھیں کہ ہم سونے کا اظہار کریں یا ہم برتن پر چاندی چڑھائیں یا اس کے گرد چاندی لگائیں، پس ان کا یہ حکم ہم پر باقی رہا تاآنکہ انہوں نے ہمیں اس بات کی رخصت دے دی۔ اور ہمیں اجازت دے دی کہ ہم سونے کا اظہار کریں لیکن انہوں نے ہمیں برتنوں کے حلقے چاندی سے بنانے اور چاندی، برتنوں پر چڑھانے کی رخصت دی اور نہ ہی اجازت عنایت فرمائی۔

حواشی
(١) سقط من: [ط، هـ].
(٢) في [أ، ح، هـ]: (عمر) وهي ابنة لذكوان، وقد ورد في مصنف عبد الرزاق (١٩٩٣٣)، وشعب الإيمان (٦٣٨٣)، ومختصر اختلاف العلماء ٥/ ٣٦٤: (بنت أبي عمرو)، بينما جاء في التمهيد ١٦/ ١٠٩: (عن أبي عمرو مولى عائشة)، وفي سنن البيهقي ١٠/ ٢٩، ومختصر خلافيات البيهقي ١/ ١٦٣: (عن عمرة).
(٣) في [أ، ح، ط]: (أو أذنت).
(٤) في [ح]: (أن).
(٥) مجهول؛ لجهالة أم عمرو.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25731
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25731، ترقيم محمد عوامة 24637)