حدیث نمبر: 25599
٢٥٥٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حميد عن أنس بن مالك قال: كنا في بيت أبي طلحة ومعنا سهيل بن بيضاء وأبي بن كعب وأبو عبيدة، وهم يشربون شرابًا لهم، إذ نادى منادٍ: ألا إن الخمر قد حرمت، فواللَّه ما نظروا (أصدق أم) (١) كذب، حتى قالوا: يا أنس أكفئ (ما) (٢) بقي في الإناء، (فأكفأناه) (٣)، وهو يومئذ البسر والتمر، فواللَّه ما عادوا فيها (حتى) (٤) لقوا اللَّه (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابو طلحہ کے گھر میں تھے اور ہمارے ساتھ حضرت سہیل بن بیضا ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت ابو عبیدہ تھے اور یہ لوگ شراب پی رہے تھے کہ اسی دوران ایک منادی نے آواز دی۔ خبردار ! شراب حرام قرار دے دی گئی ہے۔ پس خدا کی قسم ! ان حضرات نے یہ نہیں دیکھا کہ یہ بات سچی ہے یا جھوٹی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے یہ کہہ دیا۔ اے انس ! برتنوں میں جو شراب باقی رہ گئی ہے وہ الٹ دو ۔ پس ہم نے وہ بقیہ شراب الٹ دی اور اس دن یہ شراب پختہ اور نیم پختہ کھجور سے تیار کردہ تھی۔ پس خدا کی قسم ! پھر یہ لوگ موت تک دوبارہ اس کی طر ف نہیں لوٹے۔

حواشی
(١) في [أ، هـ]: (صدق أو).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) في [هـ]: (فأكفأ إناءه)، وفي [جـ]: (فكفكناه).
(٤) في [ط]: (حق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25599
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٥٨٢)، ومسلم (١٩٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25599، ترقيم محمد عوامة 24505)