حدیث نمبر: 25597
٢٥٥٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان بن مسلم قال: حدثنا المثنى بن عوف قال: حدثنا أبو عبد اللَّه (الجسري) (١) عن معقل بن يسار أنه (سأله) (٢) (عن) (٣) الشراب فقال: كنا بالمدينة وكانت كثيرة التمر، فحرم علينا رسول اللَّه ﷺ (الفضيخ) (٤) قال: جاء رجل يسأله عن أمه قد بلغت سنًا لا تأكل الطعام: (يسقيها) (٥) النبيذ؟ (قال) (٦): قلت له: يا معقل بن يسار (٧) (ما) (٨) أمرته به؟ ⦗٣٠٥⦘ قال: أمرته أن لا يسقيها (٩).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو عبد اللہ جسری، حضرت معقل بن یسار کے بارے مں ؟ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت معقل سے شراب کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا، ہم مدینہ میں ہوتے تھے اور وہ کھجوروں کی کثرت والا علاقہ تھا۔ لیکن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم پر فضیخ کو حرام فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے اپنی والدہ کے بارے میں ان سے سوال کیا کہ اس کی والدہ عمر کے اس حصہ کو پہنچ گئی ہے کہ جہاں وہ کھانا نہیں کھا سکتی تو کیا سائل اپنی والدہ کو نبیذ پلا دے ؟ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے کہا، اے معقل بن یسار ! آپ نے اسے اس کے بارے میں کیا حکم دیا ؟ انہوں نے کہا، میں نے اس کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اپنی والدہ کو نبیذ نہ پلائے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (الجري).
(٢) في [ز]: (سأل).
(٣) سقط (عن) من: [هـ].
(٤) في [ح، ط]: (الفضح).
(٥) في [أ، ح، ز]: اليسقيها).
(٦) في [ط]: (وقال).
(٧) في [ط]: زيادة (قال).
(٨) في [ط]: (لما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25597
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٠٢٩٩) وفي الأشربة (١٨٤)، والطيالسي (٩٣٤)، وابن قانع ٣/ ٧٩، والطبراني ٢٥/ (٥٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25597، ترقيم محمد عوامة 24503)