حدیث نمبر: 25582
٢٥٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (النجراني) (١) قال: قلت لعبد اللَّه بن عمر: إنا بأرض ذات تمر وزبيب، (فهل) (٢) (يخلط) (٣) التمر والزبيب فننبذهما جميعًا؟ قال: لا، قلت: لم؟ (قال) (٤): إن رجلًا سكر على عهد رسول اللَّه ﷺ فأتي به النبي وهو سكران، فضربه ثم سأله عن شرابه، (قال) (٥): شربت نبيذًا، (قال) (٦): أي نبيذ؟ قال: نبيذ تمر وزبيب، قال: قال النبي ﷺ: "لا تخلطوهما فإن كل واحد منهما يكفي وحده" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت نجرانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا، ہم لوگ کھجوروں اور کشمش کی زمین میں ہوتے ہیں کیا اس بات کی اجازت ہے کہ کھجور اور کشمش کو ملا لیا جائے پھر ہم ان دونوں کی اکٹھی نبیذ بنالیں۔ انہوں نے جواب دیا، نہیں۔ میں نے پوچھا، کیوں ؟ انہوں نے جواباً فرمایا، ایک آدمی ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ اقدس میں حالت سکر میں تھا کہ اس کو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں اس حال میں لائے کہ وہ نشہ کی حالت میں تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مارا (یعنی مارنے کا حکم دیا) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے مشروب کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا میں نے نبیذ پی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ” کون سی نبیذ ؟ “ اس نے جواب دیا، کھجور اور کشمش کی نبیذ۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم ان دونوں کو باہم خلط نہ کرو کیونکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ کافی ہے۔ “

حواشی
(١) في [هـ]: (الحراني).
(٢) في [أ، ح، هـ]: (هل).
(٣) في [هـ]: (يخط).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) في [ز]: (فقال).
(٦) في [ز]: (فقال).
(٧) مجهول؛ لجهالة النجراني، أخرجه أحمد (٤٧٨٦)، والنسائي في الكبرى (٥٢٩٤)، وأبو يعلى (٥٧٨٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25582
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25582، ترقيم محمد عوامة 24489)