مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه) باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
٢٥٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد (عن) (١) موسى بن (عبد اللَّه) (٢) بن يزيد الأنصاري قال: كانت لعبد الرحمن بن (بشر) (٣) الأنصاري قرية يصنع له بها طعام، فدعا ناسا من أصحابه فأكلوا، ثم أتوا بشراب من الطلاء، وفيهم أناس من أهل بدر، فقالوا: ما هذا؟ (قالوا) (٤): شراب (يصنعه) (٥) ابن (بشر) (٦) لنفسه، (فقالوا) (٧): هو (الرجل) (٨) لا يرغب عن شرابه، فشربوا (٩).حضرت موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید انصاری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن ابن بشر انصاری کے پاس ایک مشک تھا جس میں ان کے لئے کھانا بنایا جاتا تھا، پس انہوں نے اپنے دوستوں میں سے کچھ لوگ کو دعوت دی انہوں نے (حضرت عبد الرحمن کے ہاں) کھانا کھایا پھر ان مہمانوں کے پاس طلاء کا مشروب لایا گیا اور ان مہمانوں میں اہل بدر کے کچھ حضرات بھی تھے۔ انہوں نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا۔ یہ ایک مشروب ہے جو حضرت ابن بشر اپنے لیے بناتے ہیں۔ اس پر اہل بدر نے کہا۔ یہ عبد الرحمن بن بشر ایسا آدمی ہے کہ جس کے مشروب سے اعراض نہیں کیا جاسکتا پس ان اہل بدر نے بھی مشروب پیا۔