مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه) باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
حدیث نمبر: 25570
٢٥٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن يحيى (١) أبي (عمر) (٢) قال: ذكر عند ابن عباس الطلاء، وذكروا طبخه، فقال ابن عباس: إن النار لا تحل شيئا ولا تحرمه؛ لأن أوله كان حلالًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبید ابی عمر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے طلاء کا ذکر ہوا اور لوگوں نے اس کے پکانے کا بھی ذکر کیا۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بلاشبہ آگ کسی چیز کو حلال کرتی ہے اور نہ ہی حرام کرتی ہے، کیونکہ یہ تو شروع ہی سے حلال تھی۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ز، ط، هـ]: زيادة (ابن).
(٢) في [ز]: (عمرو).