مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
الطلاء من قال: إذا ذهب (ثلثاه) (فاشربه) باب: طلاء کے بارے میں جن لوگوں نے کہا ہے کہ جب اس کے دو تہائی ختم ہو جائیں تو پھر تم اس کو پی لو
٢٥٥٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد] (١) عن عثمان بن قيس قال: خرجت مع (جرير) (٢) يوم الجمعة إلى حمام له بالعاقول، فأتينا بطعام فأكلنا، ثم أتينا بعسل وطلاء، فقال: جرير اشربوا أنتم العسل، وشرب (هو) (٣) الطلاء وقال: إنه يستنكر منكم ولا يستنكر مني، قلت أي (الطلاء) (٤) ⦗٢٩٥⦘ هو؟ قال: كنت أجد ريحه كمكان تلك، و (أومأ) (٥) بيده إلى أقصى حلقة في القوم (٦).حضرت عثمان بن قیس سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن جریر کے ہمراہ مقام عاقول میں ان کے حمام کی طرف نکلا، پس ہمارے پاس کھانا لایا گیا، جس کو ہم نے کھایا، پھر ہمارے پاس شہد اور طلاء لایا گیا، جریر نے کہا : تم لوگ شہد پیو اور انہوں نے خود طلاء پیا، اور کہنے لگا۔ یہ (طلائ) پینا تمہاری طرف عجیب سمجھا جائے گا لیکن میری طرف سے عجیب نہیں سمجھا جائے گا۔ میں نے پوچھا، یہ کون سا طلاء ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ میں اس کی بُو کو فلاں جگہ سے پا لیتا ہوں اور (یہ کہہ کر) انہوں نے لوگوں میں سے جو سب سے دور بیٹھا ہوا گروہ تھا اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا۔