مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
(في النبيذ) في القوارير والشرب فيها باب: بوتلوں میں نبیذ، اور بوتلوں میں پینا
٢٥٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (معرف) (١) بن واصل قال: حدثتني والدتي عن امرأة يقال لها: بنت (الأقعص) (٢) وكانت كنة لعبد اللَّه بن عمر أنها أتت ابن عمر بجرة خضراء، (فقالت) (٣): ⦗٢٨٨⦘ (يا) (٤) هذا؟ (ينبذ) (٥) في هذه؟ فأدخل ابن عمر يده في جوفها فقال: عزمت عليك لتشربن فيها، فإنما هي مثل القارورة (٦).حضرت معروف بن واصل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے ایک عورت کے بارے میں بیان کیا جس کو۔ بنت الاقعص کہا جاتا تھا۔ اور یہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بہو تھیں۔ کہ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سبز رنگ کا گھڑا لے کر آئیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا، یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا۔ ہم اس گھڑے میں نبیذ بناتے ہیں۔ پس حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس گھڑے کے اندر اپنا ہاتھ داخل کیا اور پھر فرمایا : میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ البتہ ضرور تم اس میں پیو۔ کیونکہ یہ تو محض بوتل کی طرح ہے۔