مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في النبيذ في الرصاص من كرهه باب: سیسہ میں نبیذ جو لوگ اس کو مکروہ سمجھتے ہیں
حدیث نمبر: 25527
٢٥٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن المختار قال: سألت أنسا (فقلت: القارورة و) (١) الرصاص فقال: لا بأس بهما، فقلت: إن الناس يقولون، قال: فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس سے سوال کیا۔ میں نے کہا۔ بوتل اور سیسہ کا استعمال کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔ میں نے کہا۔ لوگ تو کچھ کہتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا۔ جو چیز تمہیں شبہ میں ڈالے اس کو چھوڑ دو اور جو شک میں نہ ڈالے اس کو لے لو۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (عن القارورة)، وفي [هـ]: (عن القارورة و).