حدیث نمبر: 25521
٢٥٥٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي الحارث التيمي عن أم معبد: (قال: قلت) (١): ما قال في هذه الأوعية؟ (فقالت) (٢): على (الخبير) (٣) سقطت، أما الحناتم فحناتم العجم التي يدخل فيها الرجل فيكنسها كنسًا: ظروف الخمر، وأما (الدباء) (٤) فالقرع، وأما المزفت (فالزقاق) (٥) المقيرة أجوافها الملونة أشعارها بالقار: ظروف الخمر، وأما النقير فالنخلة الثابتة عروقها في الأرض، المنقورة نقرًا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو الحارث تیمی، حضرت ام معبد سے روایت کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا۔ ان برتنوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواباً فرمایا : تم ایک باخبر کے پاس آئے ہو (یعنی واقف سے سوال کیا ہے۔ ) بہرحال : حناتم : عجم کے حناتم یہ وہ برتن تھے جن میں آدمی داخل ہوجاتا تھا اور ان کو صاف کرتا تھا۔ شراب کے برتن اور دُبَّاء : یہ کدو (کا مصنوعی برتن) ہے۔ اور مزفّت : یہ وہ مشکیزہ ہے جس کے اندر تارکول ملا ہو اور اس کا ظاہر بھی تارکول سے رنگین ہوتا۔ شراب کے برتن۔ اور نقیر : یہ وہ درخت کا تنا ہے جس کی رگں زمین میں ہی ہوں۔ اور اس کو اندر سے خالی کرکے برتن بنالیا جائے۔

حواشی
(١) في [جـ]: (قالت: قلت)، وفي [أ، هـ]: (قال: قالت).
(٢) في [ز]: (فقال).
(٣) في [ح]: (الخيير).
(٤) في [ح]: (الديا).
(٥) في [ط]: (والزقاق).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25521
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25521، ترقيم محمد عوامة 24428)