٢٥٥١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن الحارث التيمي عن يحيى بن غسان التيمي عن ابن (الرسيم) (١) -وكان رجلًا من أهل هجر وكان فقيها- حدث عن أبيه أنه انطلق إلى النبي ﷺ في وفد في صدقة يحملها إليه، قال: فنهاهم عن النبيذ في هذه الظروف، فرجعوا إلى أرضهم وهي أرض تهامة حارة، فاستوخموها فرجعوا إليه العام الثاني في صدقاتهم، فقالوا: يا رسول اللَّه (إنك) (٢) نهيتنا عن هذه الأوعية فتركناها، (وشق) (٣) ذلك علينا فقال: "اذهبوا فاشربوا فيما شئتم من شاء أوكى سقاءه على إثم" (٤).حضرت ابن رسیم سے …یہ اہل ہجر میں سے ایک شخص تھے اور فقیہ تھے … اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ وہ ایک وفد میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ وفد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس صدقہ لے کر گیا تھا۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفد والوں کو ان برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا۔ چناچہ وہ لوگ اپنے علاقہ میں واپس چلے گئے۔ وہ تہامہ کا علاقہ گرم تھا۔ پس ان لوگوں کو یہ زمین موافق ثابت ہوگئی۔ پھر وہ اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اپنے صدقات لے کر حاضر ہوئے اور انہوں نے بتایا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ نے ہمیں ان برتنوں سے منع کیا تھا پس ہم نے وہ برتن چھوڑ دئیے لیکن ہمیں اس پر بہت مشقت ہوئی۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم جاؤ اور جس میں چاہو پیو، جو شخص چاہے وہ اپنے مشکیزہ کو گناہ پر باندھ لے۔ “