حدیث نمبر: 25500
٢٥٥٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن حميد الطويل عن عقبة ابن ميسرة قال: كنا عند معقل بن يسار، فدعا بطعام فأكلنا، ثم أتينا بقدح من نبيذ ⦗٢٧٨⦘ فشرب وشربنا حتى انتهى إلى ابن له، فأبى أن يشرب، فأخذ معقل عصى كانت عنده، فضرب بها رأسه فشجه ثم قال له: أتفعل كذا وكذا، -وذكر من مساوئه- (وتأبى) (١) أن تشرب من شراب شربه أبوه وعمومته؛ لأنه نبيذ جر (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عقبہ بن میسرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم حضرت معقل بن یسار کے ہاں تھے تو انہوں نے کھانا منگوایا۔ پھر ہمارے پاس نبیذ کا پیالہ لایا گیا پس حضرت معقل نے بھی پیا اور ہم نے بھی پیا۔ یہاں تک کہ وہ پیالہ حضرت معقل کے بیٹے کے پاس پہنچا۔ انہوں نے پنے ل سے انکار کردیا۔ تو حضرت معقل نے اپنے پاس موجود عصا پکڑا۔ وہ اس کے سر پردے مارا جس سے اس کا سر زخمی ہوگیا۔ پھر حضرت معقل نے بیٹے سے کہا۔ کیا تو یہ یہ کام کرتا ہے … حضرت معقل نے اس کے نامناسب افعال ذکر کئے … اور اس مشروب کے پینے سے انکار کرتا ہے جس کو تیرے باپ اور چچاؤں نے پیا ہے۔ (صرف) اس لئے کہ یہ گھڑے کی نبیذ ہے ؟

حواشی
(١) (يأبى) في: [أ، ح، ط].
(٢) مجهول؛ لجهالة عقبة بن ميسرة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25500
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25500، ترقيم محمد عوامة 24407)