حدیث نمبر: 25470
٢٥٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أبي هارون (الغنوي) (١) عن أبي مجلز قال: صنع قيس بن (عُبَاد) (٢) لأناس من القراء طعاما ثم سقاهم نبيذا ثم قال: تدرون ما النبيذ الذي سقيتكم؟ قالوا: نعم، سقيتنا نبيذا قال: لا، ولكنه نبيذ (جر أو) (٣) جرار، ثم (انطلق) (٤) إلى (٥) معقل بن يسار، ⦗٢٧٢⦘ قال: فقال: فيما ينبذ لك فدعا الجارية، فجاءت بجر أخضر، فقال: ينبذ لي في هذا (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مجلز سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت قیس بن عباد نے کچھ قراء کے لئے کھانا بنایا پھر انہوں نے ان کو نبیذ پلائی۔ پھر پوچھا۔ جانتے ہو یہ نبیذ جو میں نے تمہیں پلائی ہے۔ یہ کون سی نبیذ ہے ؟ قراء نے کہا۔ ہاں۔ تم نے ہمیں نبیذ پلائی ہے۔ انہوں نے کہا۔ نہیں۔ بلکہ یہ تو گھڑے کی نبیذ تھی۔ پھر یہ صاحب حضرت معقل بن یسار کے پاس چلے گئے۔ راوی کہتے ہں ن۔ اور ان سے کہا۔ آپ کے لئے کس برتن میں نبیذ تیار کی جاتی ہے ؟ چناچہ انہوں نے لونڈی کو بلایا پس وہ لونڈی سبز رنگ کا گھڑا لے کر آئی۔ حضرت معقل نے کہا۔ میرے لئے اس میں نبیذ تیار کی جاتی ہے۔

حواشی
(١) (العنوى) في: [أ، ز، ط، هـ].
(٢) (عباده) في: [ز].
(٣) سقط من: [ز].
(٤) في [ط]: (انطلقوا)، وفي [ز]: (انطل).
(٥) (أبي) زيادة في: [ز].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25470
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25470، ترقيم محمد عوامة 24380)