حدیث نمبر: 25462
٢٥٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن أبي مسكين عن (هزيل) (٢) بن شرحبيل قال: (مر) (٣) عمر بن الخطاب على ثقيف فاستسقاهم، فقالوا: أخبؤا نبيذكم فسقوه ماء، فقال: اسقوني من نبيذكم يا معشر ثقيف، قال: فسقوه، فأمر الغلام فصب ثم أمسك بيده ثم قال: يا معشر ثقيف إنكم تشربون من هذا الشراب الشديد، فايكم رابه من شرابه شيء فليكسره بالماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ہذیل بن شرحبیل سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب قبیلہ بنو ثقیف پر سے گزرے تو آپ نے ان سے پانی طلب کیا۔ انہوں نے (باہم ایک دوسرے سے) کہا۔ تم اپنی نبیذ چھپالو اور ان کو پانی پلا دو ۔ اس پر حضرت عمر نے کہا۔ اے گروہ ثقیف ! تم مجھے اپنی نبیذ میں سے پلاؤ۔ راوی کہتے ہیں۔ پس انہوں آپ کو نبیذ پلائی۔ حضرت عمر نے غلام کو حکم دیا اس نے پانی ڈالا پھر آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کو روک دیا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے گروہ ثقیف ! تم اس سخت مشروب کو پیتے ہو۔ پس تم میں جس کسی کو یہ کسی درجہ شک میں ڈالے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو پانی سے توڑ ڈالے۔

حواشی
(١) (عبدة) في: [ط].
(٢) في [أ، هـ]: (هذيل).
(٣) في [جـ]: (أمر).
(٤) منقطع؛ هزيل لم يدرك عمر.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25462
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25462، ترقيم محمد عوامة 24372)