حدیث نمبر: 25449
٢٥٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك قال: سألت ابن عمر عن النبيذ الشديد فقال: جلس رسول اللَّه ﷺ مجلسا بمكة، فجاءه رجل فجلس إلى جنبه، فوجد منه ريحًا شديدة فقال: "ما هذا الذي شربت؟ " فقال: نبيذ، فقال: "جئ منه"، قال: فدعا بماء فصبه عليه وشرب ثم قال: "إذا اغتلمت أسقيتكم (١) فاكسروها بالماء" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الملک سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سخت نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک طرح کی سخت بُو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” یہ تم نے کیا پیا ہے ؟ “ اس آدمی نے جواب دیا۔ نبیذ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ میرے پاس لاؤ۔ راوی کہتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور اس میں ڈال دیا اور اس کو نوش فرما لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” جب تمہارے مشکیزے تم پر حد کو تجاوز کر جائیں تو تم ان کو پانی سے توڑ ڈالو۔ “

حواشی
(١) في [جـ]: زيادة (عليكم).
(٢) مجهول؛ لجهالة عبد الملك، أخرجه النسائي ٨/ ٣٢٣، والطحاوي ٤/ ٢١٩، والدارقطني ٤/ ٢٦٢، والبيهقي ٨/ ٣٠٥، وابن أبي حاتم في المجروحين ٢/ ١٣٢، والمزي ٢٨/ ٤٢٦، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25449، ترقيم محمد عوامة 24359)