مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في الرخصة في النبيذ، ومن شربه باب: نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
حدیث نمبر: 25438
٢٥٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن همام (قال: أتي) (١) عمر بنبيذ زبيب من نبيذ زبيب الطائف، قال: فلما (ذاقه) (٢) قطب، فقال: إن لنبيذ زبيب الطائف (لعُرامًا) (٣)، ثم دعا بماء فصبه عليه، (فشرب) (٤) وقال: إذا اشتد عليكم فصبوا عليه الماء واشربوا (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہمام سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس مقام طائف کی کشمش کی نبیذ لائی گئی۔ راوی کہتے ہیں : پس جب آپ نے اس کو چکھا تو آپ نے اس میں آمیزش کرنا چاہی اور آپ نے فرمایا : یقینا طائف کی کشمش کی نبیذ سخت ہوتی ہے، پھر آپ نے پانی منگوایا اور اس میں انڈیل دیا پھر اس کو نوش فرمایا۔ اور کہا : جب تم میں سے کسی کو نبیذ سخت لگے تو تم اس میں پانی ڈال لو اور اس کو پی لو۔
حواشی
(١) في [ز]: (عن أبي).
(٢) في [ح]: (ذرقه).
(٣) أي: شدة، وفي [ط، هـ]: (لغراما).
(٤) في [جـ]: (وشرب)، وفي [ز]: (وشربه).