مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في الرخصة في النبيذ، ومن شربه باب: نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
٢٥٤٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمرو (بن) (١) مرة عن زاذان قال: سألت ابن عمر عن النبيذ فقلت له: إن لنا (لغة) (٢) غير لغتكم ففسره لنا بلغتنا، فقال ابن عمر: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الحنتمة وهي الجرة، ونهى عن الدباء وهي القرعة، وعن المزفت وهي القير، وعن النقير وهي النخلة، وأمر أن ينبذ في الأسقية (٣).حضرت زاذان سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ اور میں نے ان سے کہا۔ ہماری لغت، تمہاری لغت سے جُدا ہے۔ پس آپ اس کو ہماری زبان میں بیان فرمائیں۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا : جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنتمہ سے منع فرمایا ہے اور یہ ایک طرح کا گھڑا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دباء سے منع فرمایا ہے اور وہ کدو کا ایک (مصنوعی) برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزفت سے منع فرمایا ہے اور یہ تارکول مارا ہوا برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر سے منع فرمایا ہے۔ اور یہ درخت کی موٹی شاخ سے تیار کردہ برتن ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ مشکیزوں میں نبیذ بنائی جائے۔