حدیث نمبر: 25428
٢٥٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن منصور عن (خالد) (١) بن سعد عن أبي مسعود أن النبي ﷺ عطش وهو يطوف بالبيت حول الكعبة، فاستسقى فأتي بنبيذ من السقاية، فشمه فقطب فقال: "عليَّ بذنوب (من) (٢) زمزم "، فصب عليه وشرب، فقال رجل: حرام هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے گرد بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سقایہ سے نبیذ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سونگھا اور پھر اس میں آمیزش کی اور فرمایا : ” میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لاؤ۔ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں وہ زم زم ملایا اور اس کو نوش فرمایا۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نہیں۔ “

حواشی
(١) في [ز]: (خلد).
(٢) سقطت من: [ط، هـ].
(٣) معلول، أخطأ فيه يحيى، وصوابه الثوري عن الكلبي عن أبي صالح، وأخرجه النسائي (٨/ ٣٢٥)، والطحاوي (٤/ ٢١٩)، والطبراني (١٧/ [٦٧٥])، والدارقطني (٤/ ٢٦٣)، والبيهقي (٨/ ٣٠٤)، وابن عدي (٣/ ٢٨)، وابن الجوزي في العلل المتناهية (١١٢٤).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25428، ترقيم محمد عوامة 24339)