مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في الرخصة في النبيذ، ومن شربه باب: نبیذ میں رخصت اور اس کو پینے والوں کا ذکر
٢٥٤٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن منصور عن (خالد) (١) بن سعد عن أبي مسعود أن النبي ﷺ عطش وهو يطوف بالبيت حول الكعبة، فاستسقى فأتي بنبيذ من السقاية، فشمه فقطب فقال: "عليَّ بذنوب (من) (٢) زمزم "، فصب عليه وشرب، فقال رجل: حرام هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا" (٣).حضرت ابو مسعود سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ کے گرد بیت اللہ کا طواف فرما رہے تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیاس لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی طلب کیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سقایہ سے نبیذ لائی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سونگھا اور پھر اس میں آمیزش کی اور فرمایا : ” میرے پاس زم زم کا ایک ڈول لاؤ۔ “ چناچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں وہ زم زم ملایا اور اس کو نوش فرمایا۔ اس پر ایک آدمی نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نہیں۔ “