حدیث نمبر: 25427
٢٥٤٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قرة العجلي عن عبد الملك بن القعقاع عن ابن عمر قال: كنا عند النبي ﷺ فأتي بقدح فيه شراب ⦗٢٦٠⦘ فقربه (١)، ثم رده، فقال له بعض جلسائه: (حرام) (٢) هو يا رسول اللَّه؟ قال: فقال: "ردوه"، فردوه ثم دعا بماء (فصبه) (٣) عليه ثم شرب، فقال: "انظروا هذه الأشربة إذا اغتلمت عليكم فاقطعوا متونها بالماء" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں کوئی مشروب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پیالہ کو اپنے قریب کیا اور پھر وہ پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واپس کردیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بعض ہم نشینوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! یہ حرام ہے ؟ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پیالہ واپس لاؤ۔ “ چناچہ صحابہ نے وہ پیالہ واپس کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور وہ پانی اس پیالہ میں ڈال دیا پھر اس کو نوش فرمایا اور ارشاد فرمایا : ” ان مشروبات کو دیکھو۔ جب یہ حد کو تمہارے اوپر تجاوز کر جائیں (یعنی نشہ آور ہوجائیں) تو تم ان کی شدت کو پانی سے توڑ ڈالو۔ “

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (إلى فيه).
(٢) في [هـ]: (أحرام).
(٣) في [جـ]: (فصب).
(٤) مجهول؛ لجهالة عبد الملك بن القعقاع، أخرجه النسائي في الكبرى (٥٢٠٤)، والطحاوي (٤/ ٢١٩)، والدارقطني (٤/ ٢٦٢)، والبيهقي (٨/ ٣٠٥)، وابن أبي حاتم في المجروحين (٢/ ١٣٢)، والمزي (١٨/ ٤٢٦)، وابن الجوزي في التحقيق (١٩٩٨).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25427
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25427، ترقيم محمد عوامة 24338)