حدیث نمبر: 25426
٢٥٤٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يزيد بن أبي زياد عن عكرمة عن ابن عباس قال: أتى النبي ﷺ السقايةَ فقال: "اسقوني من هذا"، فقال: العباس ألا نسقيك مما نصنع في البيوت؟ قال: "لا، ولكن اسقوني مما يشرب الناس"، قال: فأتي بقدح من نبيذ فذاقه فقطب ثم قال: "هلموا (ماء) (١) "، فصبه عليه، ثم قال: "زد فيه مرتين أو (ثلاثًا) (٢) "، (ثم) (٣) قال: "إذا أصابكم هذا فاصنعوا به هكذا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سِقَایہ پر (حاجیوں کو پانی پلانے کی جگہ پر) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اس میں سے پانی پلاؤ “ حضرت عباس نے کہا۔ ہم گھروں میں جو مشروب بناتے ہیں۔ آپ کو اس میں سے نہ پلائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں۔ بلکہ مجھے اسی میں سے پلاؤ جس سے عام لوگ پیتے ہیں۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پیالہ نبیذ کا لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو چکھا ! پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں آمیزش کی پھر فرمایا : ” پانی لاؤ۔ “ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی اس نبیذ پر ڈال دیا پھر فرمایا : ”’ اس میں اضافہ کرو “ دو یاتین مرتبہ یہ فرمایا : پھر اس کے بعد ارشاد فرمایا : ” جب تمہیں یہ چیز ملے تو تم اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ “

حواشی
(١) في [ز]: (بماء).
(٢) في [ح]: (ثلاث).
(٣) سقط (ثم) من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25426
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد بن أبي زياد، وذكره البيهقي (٨/ ٣٠٤)، وابن عبد ريه في العقد الفريد (٦/ ٣٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25426، ترقيم محمد عوامة 24337)