حدیث نمبر: 25425
٢٥٤٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن جابر قال: كنا مع النبي ﷺ فاستسقى فقال رجل: ألا نسقيك نبيذا؟ قال: "بلى"، فخرج الرجل يشتد، فجاء بقدح فيه نبيذ، فقال: رسول اللَّه ﷺ: "ألا خمرته، ولو أن تعرض عليه عودًا" (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جابر سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی مانگا تو ایک آدمی نے کہا۔ کیا ہم آپ کو نبیذ نہ پلائیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں “ راوی کہتے ہیں۔ پس وہ آدمی دوڑتا ہوا نکلا پھر وہ ایک پیالہ لے کر حاضر ہوا جس میں نبیذ تھا۔ تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس کو ڈھانپا کیوں نہیں اگرچہ اس پر چوڑائی میں ایک لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔ “

حواشی
(١) شاذ؛ فأكثر الرواة لا يذكرون النبيذ، والحديث أخرجه مسلم (٢٠١١)، وأحمد (١٤٣٦٧)، وروى البخاري (٥٦٠٥)، ومسلم (٢٠١١)، هذا الحديث بلفظ: (بقدح من لبن من النقيع).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25425
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25425، ترقيم محمد عوامة 24336)