مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
في شرب العصير: من كرهه إذا غلى باب: عصری (کسی شئی کا شیرہ ، عرق وغیرہ) پینے کے بیان میں جو لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں جب کہ یہ جوش مارنے لگے
حدیث نمبر: 25424
٢٥٤٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا بشير بن عقبة قال: سألت ابن سيرين عن عصير العنب فقال: عصير (يومه) (١) في معصرته، قال: اشربه في يومه، فإني أكره إذا حُوِّل في (وعاء أو إناء) (٢) وقال: (عليكم) (٣) بسُلافة العنب (٤) فإنها أطيبه فاشربه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن عقبہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین سے انگور کے عصیر کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : اسی دن کا عصیر ہو اور جس برتن میں بنایا گیا ہو اسی میں ہو۔ فرمایا : اس کو اسی دن پی لو۔ جب یہ عصیر کسی دوسرے برتن وغیرہ میں منتقل کیا جائے تو پھر میں اس کو مکروہ سمجھتا ہوں۔ اور یہ بھی فرمایا۔ تم شروع شروع کے انگور استعمال کرو کیونکہ یہ زیادہ لذیذ ہوتے ہیں۔ پس اس کو پی لو۔
حواشی
(١) في [ز]: (يوم).
(٢) في [جـ، ز]: (إناء أو وعاء).
(٣) في [ز]: (عليك).
(٤) أي: أول عصرة له.