حدیث نمبر: 25404
٢٥٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد الملك (ابن نافع) (١) قال: قلت لابن عمر: إني أنبذ نبيذ زبيب، فيجيء ناس من أصحابنا فيقذفون فيه التمر، فيفسدونه علي، فكيف ترى؟ قال: لا بأس (به) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الملک بن رافع سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ میں کشمش کی نبیذ بناتا ہوں لیکن میرے دوستوں میں سے کچھ لوگ آتے ہیں اور اس میں تمر (کھجوریں) پھینک دیتے ہیں اور میری نبیذ کو خراب کردیتے ہیں۔ اب (اس بارے میں) آپ کی کیا رائے ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (عن نافع)، وفي [ز]: (عن ابن نافع).
(٢) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عبد الملك متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25404، ترقيم محمد عوامة 24317)