حدیث نمبر: 25402
٢٥٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا (عبد الواحد) (١) بن صفوان قال: سمعت أبي يحدث عن (أمه) (٢) (أنها) (٣) (قالت) (٤): كنت (أمغث) (٥) لعثمان الزبيب (غدوة) (٦) (فيشربه) (٧) عشية، (أو) (٨) (أمغثه) (٩) عشية فيشربه غدوة، فقال لها عثمان: لعلك تجعلين فيه (زهوًا) (١٠) قالت: ربما فعلت، قال: فلا تفعلي (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الواحد بن صفوان بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد کو سُنا وہ اپیش والدہ سے بیان کرتے تھے کہ وہ کہتی ہیں۔ میں حضرت عثمان کے لئے صبح کے وقت کشمش مل دیتی تھی۔ جس کو وہ شام کے وقت پیتے تھے اور (اسی طرح) میں آپ کے لئے شام کو کشمش مَل دیتی تھی جس کو آپ صبح کے وقت پیتے تھے۔ پھر حضرت عثمان نے (ایک دن) ان (خاتون صفیہ) سے کہا۔ شاید کہ آپ اس میں کھجوریں بھی ڈالتی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا۔ کبھی کبھی یہ کرتی ہوں تو حضرت عثمان نے فرمایا : یہ کام نہ کرو۔

حواشی
(١) في [ط]: (عبد الرحمن).
(٢) في [ط]: (أم).
(٣) في [أ، ح، ز، ط]: سقط.
(٤) في [أ، ح، ط]: (قال).
(٥) أي: أمرس، وفي [أ، ح، ط]: (أمعت).
(٦) سقط من: [ز].
(٧) في [ز]: (فيشرب).
(٨) في [هـ]: (و).
(٩) في [أ، ح، ط]: (أمعته).
(١٠) في [جـ، ط]: (زهرًا).
(١١) مجهول؛ لجهالة صفوان وأمه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25402
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25402، ترقيم محمد عوامة 24315)