مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من كره الجر الأخضر ونهى عنه باب: جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
٢٥٣٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا جرير بن حازم قال: حدثني يعلى بن حكيم عن (صهيرة) (١) [بنت جيفر سمعه منها قالت: حججنا ثم انصرفنا إلى المدينة (فدخلنا) (٢) على صفية] (٣) ننت حيي فوافقنا عندها نسوة من أهل الكوفة، فقلن لنا: إن شئتن سألنا وسمعتن، وإن شئتن سألتن وسمعنا، (فقلن) (٤): سلن، فسألن عن أشياء من أمر المرأة وزوجها، ومن أمر المحيض، وسألن عن نبيذ الجر، [فقالت: (أكثرتن) (٥) يا أهل العراق علينا في نبيذ الجر] (٦)، حرم رسول اللَّه ﷺ نبيذ الجر، (ما) (٧) على إحداكن أن تطبخ ثمرها (٨) تدلكه ثم تصفيه فتجعله في سقائها (وتوكئ) (٩) عليه، فإذا طاب شربت (وسقت زوجها) (١٠) (١١).حضرت صُہَیرہ بنت جیفر سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ ہم نے (ایک مرتبہ) حج ادا کیا پھر ہم مدینہ کی طرف واپس آئے اور ہم حضرت صفیہ بنت حیی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ وہاں پر ہمیں اتفاق سے اہل کوفہ کی کچھ خواتین مل گئیں۔ انہوں نے ہم سے کہا۔ اگر تم چاہتی ہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم (چپ کر کے) سنو اور اگر تم چاہتی ہو تو تم سوال کرلو ہم سماعت کرلیں گی۔ ہم نے کہا : تم پوچھو۔ پس انہوں نے میاں ، بیوی کے بہت سے امور کے بارے میں اور حائضہ کے بارے میں سوال کیا۔ اور انہوں نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر حضرت صفیہ نے فرمایا : اے اہل عراق ! تم نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں ہم سے بکثرت سوالات کیئے ہیں جبکہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو گھڑے کی نبیذ کو حرام قرار دیا ہے۔ تم میں سے کسی پر کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنی کھجور کو پکاتی ہے۔ پھر اس کو ملتی ہے، صاف کرتی ہے پھر اس کو مشکیزہ میں ڈالتی ہے اور اس پر کوئی ڈوری وغیرہ باندھ کر اس کا منہ بند کردیتی ہے پس جب وہ مشروب لذت آمیز ہوجاتا ہے تو خود بھی پیتی ہو اور اپنے خاوند کو بھی پلاتی ہے ؟۔