حدیث نمبر: 25376
٢٥٣٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا شعبة عن أبي (جمرة) (١) أن امرأة أتت ابن عباس، وقد كنت حلفت أن لا أسأل عن نبيذ الجر فقالت لي: سله فأبيت أن أسأله فسأله رجل (عن) (٢) نبيذ الجر فنهاه، فقلت (يا أبا عباس) (٣) إني أنتبذ في جر أخضر فأشربه حلوًا طيبًا فيقرقر بطني فقال: لا تشربه وإن كان أحلى (من) (٤) العسل (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو جمرہ سے روایت ہے کہ ایک عورت حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئی … اور میں نے (راوی نے) یہ حلف اٹھا رکھا تھا کہ میں گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال نہیں کروں گا… اس عورت نے مجھ سے کہا۔ تم ِ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرو۔ تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کرنے سے انکار کیا۔ پس کسی آدمی نے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کیا ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کو منع کردیا۔ اس پر میں نے پوچھا۔ اے ابن عباس رضی اللہ عنہما ! میں تو سبز گھڑے کی نبیذ بناتا ہوں اور پھر اس کو پیتا ہوں اس حال میں کہ وہ میٹھی اور لذیذ ہوتی ہے پس وہ میرے پیٹ کو صاف کردیتی ہے۔ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اس کو نہ پیو اگرچہ یہ شہد سے بھی زیادہ میٹھی ہو۔

حواشی
(١) في [ز]: (حضرة).
(٢) في [ط]: (في).
(٣) في [هـ]: (يا ابن عباس).
(٤) في [ط]: (في).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25376
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25376، ترقيم محمد عوامة 24289)