مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من كره الجر الأخضر ونهى عنه باب: جو لوگ سبز گھڑے کو مکروہ سمجھتے ہیں اور اس سے منع کرتے ہیں
حدیث نمبر: 25375
٢٥٣٧٥ - (حدثنا أبو بكر قال: حدثنا) (١) عبد اللَّه بن إدريس عن شعبة عن ثابت قال: قلت لابن عمر: نُهي عن نبيذ الجر؛ فقال: زعموا (ذاك) (٢)، [قلت عن رسول اللَّه ﷺ؟ قال: زعموا ذاك، قلت: أنت سمعته؟ قال: زعموا ذاك، قال] (٣): وصرفه اللَّه عني (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت سے روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا۔ گھڑے کی نبیذ سے منع کیا گیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حکم ثابت ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ میں نے پوچھا : آپ نے یہ حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سُنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کا خیال یہی ہے۔ اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس کو مجھ سے پھیر دیا ہے۔
حواشی
(١) زائدة من: [هـ].
(٢) في [جـ]: (ذاك).
(٣) سقط من: [جـ].