حدیث نمبر: 25346
٢٥٣٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا سليمان التيمي عن أسماء بنت يزيد عن ابن عم لها (يقال) (١) له أنس: أنه سمع ابن عباس (يقول) (٢): ألم يقل اللَّه (تعالى) (٣): ﴿(وَ) (٤) مَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: ٧]، قالوا: بلى، قال: ألم يقل اللَّه تعالى: ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا (أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ) (٥)﴾ [الأحزاب: ٣٦] الآية، قال: فأشهد على رسول اللَّه ﷺ أنه (نهى) (٦) عن نبيذ النقير والمزفت والدباء والحنتم (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت اسماء بنت یزید، اپنے چچا زاد (جن کو انس کہا جاتا تھا) سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سُنا کہ کیا یہ فرمان خداوندی نہیں ہے۔ : ” اور رسول تمہیں جو کچھ دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رُ ک جاؤ “ ؟ لوگوں نے کہا۔ کیوں نہیں۔ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا۔ کیا یہ کلام خداوندی نہیں ہے۔ ” اور جب اللہ اور رسول کسی بات کی حتمی فیصلہ کردیں تو نہ کسی مؤمن مرد کے لئے یہ گنجائش ہے۔ نہ کسی مؤمن عورت کے لئے۔ “ ؟ پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نقیر، مزفت ، دُباء اور حنتم کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ح، ط]: (فقال).
(٢) سقط من: [ط].
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) في [جـ، ز]: زيادة (و).
(٥) سقط من: [أ، جـ، ح، ز].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) مجهول؛ لجهالة أسماء بنت يزيد وابن عمها أنس، أخرجه النسائي في الكبرى (٥١٥٤)، والبخاري في التاريخ ٢/ ٣١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25346
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25346، ترقيم محمد عوامة 24261)