مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
ما ذكر عن النبي ﷺ فيما نهى عنه من الظروف باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے برتنوں کی ممانعت کے بارے میں مروی احادیث
٢٥٣٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أشعث بن عمير العبدي عن أبيه قال: أتى النبي ﷺ وفد عبد القيس، فلما أرادوا الانصراف قالوا: قد حفظتم عن النبي ﷺ (١) كل شيء سمعتم منه، (فسلوه) (٢) عن النبيذ، فأتوه فقالوا: يا رسول اللَّه: إنا بأرض وخمة لا يصلحنا فيها إلا الشراب، قال: فقال: "وما شرابكم؟ " (قالوا: النبيذ) (٣)، قال: "في أي شيء (تشربونه) (٤)؟ " قالوا: في النقير، قال: "فلا تشربوا (في النقير"، قال: فخرجوا) (٥) فقالوا: واللَّه لا يصالحنا (قومنا) (٦) على هذا، فرجعوا فسألوه، فقال لهم مثل ذلك، ثم عادوا فقال لهم: "لا تشربوا في النقير فيضرب منكم الرجل ابن عمه (ضربة) (٧) لا يزال منها أعرج إلى يوم ⦗٢٣٩⦘ القيامة"، قال: فضحكوا (قال) (٨): "من أي شيء (تضحكون؟) (٩) " قالوا: يا رسول اللَّه والذي بعثك بالحق لقد شربنا في نقير لنا فقام بعضنا إلى بعض، فضرب هذا ضربة عرج منها إلى يوم القيامة (١٠) (١١).حضرت اشعث بن عمیر عبدی، اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں عبد القیس کا وفد حاضر ہوا۔ پس جب انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو انہوں نے (باہم) کہا۔ تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ ساری چیزیں محفوظ کرلی ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تم نے سُنی ہیں۔ تو (اب) تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نبیذ کے بارے میں پوچھ لو ؟ چناچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگے اور انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ایک ناموافق زمین میں ہیں۔ جس میں ہمیں ایک خاص مشروب ہی موافق آتا ہے۔ راوی کہتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تمہارا مشروب کیا ہے ؟ انہوں نے کہا۔ نبیذ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا۔ ” تم کس چیز (برتن) میں اس کو پیتے ہو ؟ “ ان لوگوں نے کہا نقیر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ ” تم نقیر میں نبیذ نہ پیو۔ “ راوی کہتے ہیں۔ پس یہ لوگ باہر نکل آئے اور انہوں (ایک دوسرے سے) کہا۔ خدا کی قسم ! ہماری قوم اس بات پر تو ہمارے ساتھ مصالحت نہیں کرے گی۔ چناچہ یہ لوگ واپس پلٹے اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال دوبارہ پوچھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں پہلے کی طرف ہی جواب دیا۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سوال دوہرایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : ” نقیر میں نبیذ نہ پیو کہ (کہیں ایسا نہ ہو) تم میں سے کوئی یہ نقیر اپنے چچا زاد کو دے مارے اور وہ بیچارہ قیامت کے دن تک لنگڑا ہی ہوجائے۔ “ راوی کہتے ہیں۔ اس پر وہ لوگ ہنس پڑے۔ آپ نے پوچھا۔ ” تم کس بات پر ہنس رہے ہو ؟ “۔ انہوں نے عرض کیا۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ واقعۃً ہم نے اپنے ایک نقیر میں نبیذ پی تھی۔ پھر ہم میں سے کوئی کھڑا ہوا اور اس نے یہ نقیر کسی کو دے مارا اور وہ شخص اس ضرب کی وجہ سے تاقیامت لنگڑا ہوگیا۔