مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من حرم المسكر وقال: هو حرام ونهى عنه باب: جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
٢٥٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن ابن عون عن ابن سيرين أن رجلا قال لابن عمر: إن أهلنا ينبذون شرابا لهم غدوة فيشربونه عشية، (وينبذون عشية) (١) فيشربونه غدوة، قال ابن عمر: أنهاك عن السكر قليله وكثيره، وأشهد اللَّه عليك أن أهل خيبر ينبذون شرابا لهم من كذا وكذا، يسمونه كذا (وكذا) (٢) وهي الخمر (وإن أهل فدك ينبذون شرابًا من كذا وكذا يسمونها كذا ⦗٢٣٤⦘ وكذا، وهي الخمر) (٣)، (فعد) (٤) أربعة أشربة أحدها العسل (٥).حضرت ابن سیرین سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا۔ کہ ہمارے اہل خانہ صبح کے وقت اپنے لیئے ایک مشروب نبیذ کا رکھتے ہیں جس کو وہ شام کے وقت پی لیتے ہیں۔ اور ایک مشروب نبیذ کا شام کو رکھتے ہیں اور اس کو صبح کے وقت پی لیتے ہیں۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ے فرمایا : میں تمہیں نشہ آور چیز سے روکتا ہوں خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ۔ اور میں تم پر اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ اہل خیبر اپنے لئے فلاں ، فلاں چیز سے نبیذ بناتے تھے اور اس کا یہ یہ نام رکھتے تھے اور یہ چیز حقیقت میں خمر تھی۔ اور اہل فدک فلاں فلاں چیز سے نبیذ بناتے تھے اور اس کا یہ ، یہ نام رکھتے تھے اور یہ چیز حقیقت میں خمر تھی۔ (اسی طرح) آپ نے چار مشروبات کا ذکر کیا جن میں سے ایک شہد تھا۔ حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ ابن سیرین ، شہد کے علاوہ ان سب کا (علیحدہ) نام لیتے تھے۔