مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من حرم المسكر وقال: هو حرام ونهى عنه باب: جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
٢٥٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (أبي) (١) حيان (عن أبيه) (٢) عن مريم بنت طارق (قالت) (٣): دخلت على عائشة في نساء من نساء (الأنصار) (٤)، فجعلن (يسألنها) (٥) عن الظروف التي تنبذ فيها، فقالت: يا نساء المؤمنين (إنكن) (لتكترن) (٦) (ظروفًا) (٧) (وتسألن) (٨) (عنها) (٩) ما كان كثير منها على عهد النبي ﷺ، فاتقين اللَّه، وما أسكر (إحداكن) (١٠) من الأشربة فلتجتنبه، وإن أسكر ماء (حبها) (١١)، فإن (كل) (١٢) مسكر حرام (١٣).حضرت مریم بنت طارق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں انصار کی عورتوں کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی۔ ان انصاری خواتین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جن میں نبیذ بنائی جاتی تھی ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اہل ایمان کی عورتو ! یقینا تم نے برتین بہت بڑھا لیئے ہیں اور ان کے بارے میں تم سوال کر رہی ہو۔ ان میں سے بہت سے برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نہیں تھے۔ پس تم اللہ سے ڈرو، مشروبات میں سے جو مشروب تم میں سے کسی کو نشہ دے تو وہ اس مشروب سے اجتناب کرے۔ اگرچہ اس کے گھڑے کا پانی اس کو نشہ دے۔ کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔