حدیث نمبر: 25306
٢٥٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (أبي) (١) حيان (عن أبيه) (٢) عن مريم بنت طارق (قالت) (٣): دخلت على عائشة في نساء من نساء (الأنصار) (٤)، فجعلن (يسألنها) (٥) عن الظروف التي تنبذ فيها، فقالت: يا نساء المؤمنين (إنكن) (لتكترن) (٦) (ظروفًا) (٧) (وتسألن) (٨) (عنها) (٩) ما كان كثير منها على عهد النبي ﷺ، فاتقين اللَّه، وما أسكر (إحداكن) (١٠) من الأشربة فلتجتنبه، وإن أسكر ماء (حبها) (١١)، فإن (كل) (١٢) مسكر حرام (١٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مریم بنت طارق سے روایت ہے، کہتی ہیں کہ میں انصار کی عورتوں کے ہمراہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئی۔ ان انصاری خواتین نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان برتنوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا جن میں نبیذ بنائی جاتی تھی ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے اہل ایمان کی عورتو ! یقینا تم نے برتین بہت بڑھا لیئے ہیں اور ان کے بارے میں تم سوال کر رہی ہو۔ ان میں سے بہت سے برتن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں نہیں تھے۔ پس تم اللہ سے ڈرو، مشروبات میں سے جو مشروب تم میں سے کسی کو نشہ دے تو وہ اس مشروب سے اجتناب کرے۔ اگرچہ اس کے گھڑے کا پانی اس کو نشہ دے۔ کیونکہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

حواشی
(١) في [هـ]: (ابن).
(٢) زائدة من: [هـ].
(٣) في [ط]: (قال).
(٤) في [هـ]: (الأمصار).
(٥) في [أ]: (سألنها)، وفي [ز]: (يسألها)، وفي [جـ]: (نسلها).
(٦) في [ط، هـ]: (لتذكرن).
(٧) في [أ، ح، ز، ط]: (ظرفًا).
(٨) في [أ، ط]: (وسل)، وفي [ح]: (نسأل)، وفي [جـ]: (نسلن).
(٩) في [ز]: (عنها) مكررة.
(١٠) في [ز]: (إحداككن).
(١١) في [أ، ح، ط]: (حيها)، والحب: الجرة الكبيرة.
(١٢) مكررة في: [ز].
(١٣) مجهول، لجهالة مريم بنت طارق، أخرجه أحمد في الأشربة (٢٢٦)، والحاكم ٤/ ١٤٧ وإسحاق (١٦٦٠)، وابن سعد (٨/ ٤٨٨)، والبيهقي ٨/ ٣١١، ومسدد كما في المطالب (١٨٢٧)، والخرائطي في المنتقى (٢٢٧).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأشربة / حدیث: 25306
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 25306، ترقيم محمد عوامة 24222)