مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأشربة
من حرم المسكر وقال: هو حرام ونهى عنه باب: جو لوگ نشہ آور چیز کو حرام قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ حرام ہے اور اس سے منع کرتے ہیں
٢٥٢٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن عبيد عن محمد بن إسحاق عن يزيد (بن) (١) أبي حبيب عن مرثد بن عبد اللَّه اليزني عن (ديلم) (٢) الحميري قال: سألت رسول اللَّه ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه إنا بأرض باردة، (نعالج) (٣) (بها) (٤) ⦗٢٢١⦘ عملًا شديدًا، وإنا نتخذ شرابًا من هذا القمح نتقوى به على أعمالنا، (و) (٥) على برد (بلادنا) (٦)، قال: "هل يسكر؟ " قلت: نعم، (قال) (٧): " (فاجتنبوه) (٨) "، [قال: ثم (جئته) (٩) من بين يديه فقلت له مثل ذلك، فقال: "هل يسكر؟ " قلت: نعم، قال: "فاجتنبوه"] (١٠)، قلت: إن الناس غير تاركيه قال: "فإن لم يتركوه فاقتلوهم" (١١).حضرت دیلم حِمْیَری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا۔ میں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ایک ٹھنڈے علاقہ میں رہتے ہیں اور وہاں ہم سخت کام کرتے ہیں اور ہم گیہوں سے ایک قسم کا مشروب تیار کرتے ہیں جس کو پی کر ہم اپنے اعمال اور اپنے علاقوں کی ٹھنڈک پر تقویت حاصل کرتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” کیا وہ نشہ آور ہوتا ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پس تم اس سے بچو۔ “ راوی کہتے ہیں کہ میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (واپس) آیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسی ہی بات (دوبارہ) کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : ” کیا یہ مشروب نشہ آور ہوتا ہے۔ “ ؟ میں نے عرض کیا۔ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پھر تم اس سے اجتناب کرو۔ “ میں نے عرض کیا۔ لوگ تو اس مشروب کو چھوڑنے والے نہیں ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ” اگر لوگ اس مشروب کو نہ چھوڑیں تو تم ان سے قتال کرو۔ “